Back

سر درد کے اسباب

سر میں درد اپنے آپ میں کوئی بیماری تو نہیں لیکن بعض اوقات شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے اور کئی وجوہ سے کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ اسباب سے ہم واقف ہوتے ہیں جب کہ بیشتر ہمارے علم میں نہیں ہوتے

پانی کی کمی
اگر ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو اس سے بھی سر میں درد ہو سکتا ہے کیونکہ پانی ہمارے جسم کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک ہے جس کی کمی ہماری صحت کے لیے کئی مسائل پیدا کر دیتی ہے، بہت سے لوگ اس طرف توجہ نہیں دیتے اور صرف اسی وقت پانی پیتے ہیں جب انہیں پیاس لگتی ہے جو ایک غلط رویہ ہے

کیفین میں کمی
چائے اور کافی آج ہمارے روزمرہ مشروبات کا حصہ بن چکی ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان کی عادی بھی ہے، چائے اور کافی میں کیفین شامل ہوتی ہے جو جسم میں چستی اور پھرتی پیدا کرتی ہے، وہ لوگ جو روزانہ چائے یا کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں، اگر وہ ان کی مقدار میں کمی کر دیں یا انہیں بالکل ہی ترک کر دیں تو انہیں بھی سر میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے

دھوپ کی زیادتی
سردیوں کی دھوپ اچھی لگتی ہے جس سے ہم خود کو ہشاش بشاش بھی محسوس کرتے ہیں، لیکن گرم اور معتدل موسم میں زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے جسم میں پانی کی کمی کے علاوہ سورج کی گرمی سے بھی سر میں درد ہو سکتا ہے

نشست و برخاست کا غلط انداز
کام کے دوران اکثر لوگ اس طرح سے بیٹھتے ہیں کہ ان کی گردن اور کمر پر زیادہ زور پڑتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی سے اٹھنے والا درد کا احساس دماغ تک پہنچتا ہے اور سر میں درد کی وجہ بھی بن سکتا ہے

تناؤ
گھریلو اور کاروباری مسائل کی وجہ سے ہمارے اعصاب دیر تک تناؤ کا شکار بھی رہ سکتے ہیں اور یہی تناؤ سر میں درد کی شدید لہر پیدا کر سکتا ہے، اس لیے کوشش کریں کہ کسی بھی طرح کے اعصابی تناؤ سے خود کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھیں کیونکہ اگر اس طرف توجہ نہ دی جائے تو یہی اعصابی تناؤ درد سر سے آگے بڑھ کر بہت سی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے

دواؤں کے ضمنی اثرات
شاید ہی کوئی دوا ایسی ہو جس کے ضمنی اثرات نہ ہوں، البتہ جب ہم کوئی دوا پہلی بار کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اس کا عادی ہونے سے پہلے کچھ نامانوسیت کا مظاہرہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں درد سر ہو سکتا ہے، تاہم اگر کوئی دوا کھانے کے بعد خاصی دیر تک سر میں درد رہے تو ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے

خون میں شوگر کی کمی
شکر ہمارے جسم میں توانائی کا اہم ترین ذریعہ بھی ہے جو صرف مٹھاس والی غذاؤں ہی میں نہیں بلکہ نمکین کھانوں تک میں موجود ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر خون میں شکر کم ہو جائے تو کمزوری کے علاوہ سر میں درد کا احساس بھی ہوتا ہے، ایسی صورت میں فوری طور پر کچھ کھا لینا چاہیے ورنہ یہ کیفیت بڑھ کر اذیت کا باعث بھی بن سکتی ہے، ذیابیطس کے مریضوں میں بھی بعض اوقات انسولین لینے کے بعد وقتی طور پر خون میں شوگر کم ہو جاتی ہے جس سے یہی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے

ہارمون کے توازن میں خرابی
مخصوص دنوں اور بلوغت کے علاوہ عمر رسیدگی کے دوران بھی خواتین میں ہارمون کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں موڈ کی خرابی سے لے کر سر میں شدید درد جیسی شکایات ہو سکتی ہے

غذائی الرجی
بعض لوگوں کو کسی خاص قسم کی غذا سے الرجی ہوتی ہے مثلاً مرغی، انڈا، مچھلی اور دودھ وغیرہ سے اور اسی الرجی کے باعث جہاں انہیں جلد پر خارش اور بیماری لاحق ہو سکتی ہے وہیں ان کے سر میں بھی درد ہو سکتا ہے

تیزی سے اٹھنا
بستر یا کرسی چھوڑ کر تیزی سے کھڑے ہونے کا نتیجہ بھی درد سر اور تیز چکر کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سر میں خون کا بہاؤ چند لمحوں کے لیے متاثر ہو جاتا ہے البتہ یہ کیفیت کچھ دیر سر کی طرف خون کا بہاؤ نارمل ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے

Advertisements