Back

ورزش اور غذائی پرہیز

ورزش سے موٹاپا اور وزن کم کرنے میں اس وقت تک کوئی خاص مدد نہیں ملتی جب تک کھانے میں احتیاط نہ برتی جائے

موٹاپے اور زائد وزنی میں مبتلا اکثر لوگ جب ورزش کرتے ہیں تو وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ورزش کا جادوئی اثر ان کا وزن گھٹا دے گا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، ورزش کے دوران ہمارا جسم زیادہ حرکت کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کو غذا کی بھی زیادہ ضرورت پڑتی ہے اور اس طرح زیادہ بھوک لگتی ہے، بھوک ختم کرنے کے لیے اکثر لوگ وہی روایتی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں خوب استعمال کرتے ہیں جن سے ان کا وزن جوں کا توں رہتا ہے بلکہ مزید بڑھ جاتا ہے

اگر آپ وزن گھٹانے کے لیے ورزش کر رہے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ایسی غذا کا استعمال بھی جاری رکھیں جو وزن نہ بڑھاتی ہو تاکہ جسم اپنی اضافی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے اندر محفوظ کی گئی چربی استعمال کرے اور یوں آپ کا وزن اور موٹاپا، دونوں ہی کم ہوتے چلے جائیں گے

جب تک ورزش کے ساتھ متوازن اور صحت بخش غذا شامل نہ ہو تب تک صرف ورزش کی بنیاد پر وزن کم نہیں کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے کے معاملے میں صرف ورزش سے توقعات وابستہ کرنا ایک غلط رویہ ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے

Advertisements