Back

سافٹ ڈرنکس کے نقصانات

میٹھے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال نوجوانوں اور بچوں کے جگر میں چربی کے اضافے کی وجہ بن سکتا ہے جسے نان الکحل فیٹی لیور ڈیزیز کہا جاتا ہے یعنی جگر پر چربی کی ایسی زیادتی جو شراب نوشی کے بغیر وجود میں آئی ہو، ماہرین صحت کے مطابق سافٹ ڈرنکس کا بے تحاشہ استعمال جگر پر لحمیات اور چربی میں اضافہ کرتا ہے اس سے سوزش اور جگر کا سرطان بھی ہو سکتا ہے

اگر موٹاپے کا شکار بچے کولڈ ڈرنک کا اندھا دھند استعمال کرنے لگیں تو یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو سکتا ہے، مغربی ممالک میں قریباً دس فیصد بچوں کا وزن زیادہ ہے اور ان میں سے ٣٨ فیصد بچے جگر کے کسی نہ کسی عارضے کے شکار ہیں

سافٹ ڈرنکس میں موجود شکر اور فرکٹوز کی زیادتی خون میں یورک ایسڈ کو بڑھاتی ہے اور این اے ایف ایل ڈی کے مریضوں میں بھی یورک ایسڈ اور فرکٹوز کی زیادتی دیکھی گئی ہے، پیزا، نمکین فاسٹ فوڈ اور چپس وغیرہ جیسی اشیاء سافٹ ڈرنکس کے ساتھ مل کر مزید نقصان پہنچاتی ہیں، ماہرین نے نوجوانوں خصوصاً موٹے بچوں کے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہے سوڈا اور سافٹ ڈرنکس کی عادت چھڑائی جائے ورنہ مستقبل میں ان کا جگر شدید متاثر ہو سکتا ہے

Advertisements