Back

دہی کے خواص اور فائدے

دودھ کی خمیر شدہ شکل کو دہی کہتے ہیں، دہی نہایت فرحت، صحت اور شفاء بخش غذا ہے، برصغیر کے لوگ دہی بہت شوق سے استعمال کرتے ہیں، دہی بنانے کے لئے اچھے دودھ کا انتخاب کرنا چاہیے، جس قدر دودھ خالص ہو گا دہی بھی عمدہ تیار ہو گی، دہی بنانے کے لئے دودھ کو ابال کر ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور اس میں تھوڑا سا دہی ملایا جاتا ہے، دہی کے ذائقہ اور میعار کا انحصار دودھ کے خالص ہونے اور دہی لگانے کے طریقے پر ہوتا ہے، دہی میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، معدنی اجزاء، فاسفورس، آئرن، کیلشیم، وٹامن اے، بی اور سی جیسے اجزاء پائے جاتے ہیں

دودھ میں شامل پروٹین دہی بنانے کے عمل میں بیکٹیریا کی وجہ سے بہت زیادہ زود ہضم بن جاتی ہے، یہی بیکٹریا جب دہی کے ذریعے پیٹ میں پہنچتے ہیں تو آنتوں میں موجود نقصان دہ جراثیم کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں، معاون ہضم بیکٹریا کی افزائش بڑھاتے ہیں اور خوراک کو اچھے طریقے سے ہضم ہونے میں اور معدنی اجزاء کو جذب کرنے مدد فراہم کرتے ہیں

ایک پاؤ دہی پانچ سو گرام گوشت کے برابر طاقت رکھتا ہے لیکن کمزور لوگوں کو دہی کا زیادہ استعمال کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ خوراک میں دہی کی مقدار بڑھانی چاہیے، دہی سے اعصاب اور جلد کو صحت مند اجزاء فراہم ہوتے ہیں اور دہی جلد کو ملائم اور چمکدار بناتے ہوئے دھوپ کے نقصانات سے بچاتی ہے

بے خوابی یعنی نیند میں کمی کے مریضوں کے لئے دہی ایک اچھی غذا ہے، دہی کھانے سے آنتوں اور معدہ کی کئی بیماریوں سے نجات ملتی ہے، جن میں اسہال، پیچش، تیزابیت، ورم وغیرہ شامل ہیں، دہی جسم کی گرمی اور سوزش کا بھی بہترین علاج ہے، دہی میں بیسن ملا کر چہرے پر لگانے سے جلد صاف شفاف اور چمکدار ہوتی ہے، پھنسیاں اور کیل ختم ہوتے ہیں، یہی پیسٹ بالوں کی جڑوں میں لگانے سے بال لمبے، ملائم اور مضبوط ہوتے ہیں

پاک و ہند میں دہی دسترخوان کی زینت ہے اور اسے مختلف صورتوں میں چاول، گوشت سبزی اور پھلوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اکثر لوگ دہی میں چینی یا شہد ملا کر یا لسی بنا کر مشروب کی شکل میں استعمال کرتے ہیں

Advertisements